ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایئر اسٹرائک پر پاک کا سوال، 300 مارے ہیں تو ان کا خون کہاں ہے؟

ایئر اسٹرائک پر پاک کا سوال، 300 مارے ہیں تو ان کا خون کہاں ہے؟

Wed, 27 Feb 2019 12:39:58    S.O. News Service

سیال کوٹ،27؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہندستان کی جانب سے ایئر اسٹرائک کئے جانے کے بعد پاکستان مسلسل تبصرے کر رہا ہے۔ ملی اطلاعات کے مطابق پاکستان کی فوج کے میڈیا ونگ انٹرسروسز پبلک رلیشن (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منگل کو ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں دعوی کیا گیا کہ 'لاہور ۔سیال کوٹ سیکٹر سرحد کی طرف بڑھ رہے ہندستانی فضائیہ کے فارمیشن کا پتہ چلا۔ اسی دوران ایک اور فارمیشن دیکھا گیا جو بہاول پور سرحد کے قریب تھا'۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ "پھر کرن وادی سے مظفر آباد سیکٹر کی طرف پرواز بھرتے  ہوئے ایک بڑا فارمیشن دیکھا گیا۔ وہ کنٹرول لائن پار کر گئے لیکن انہیں بھی پاکستان ایئر فورس کی چیلنج  کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کنٹرول لائن کے اندر 4۔5 سمندری میل کی دوری پر آگئے۔ پیچھے ہٹنے پر انہوں نے اپنا پولوڈ گرا دیا اور باہر نکل گئے۔ یہ پولوڈ جابا پر گرے"۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ہندستانی فضائیہ کا دعوی ہے کہ 300 دہشت گرد مار گرائے۔ اگر انہوں نے 10 کو بھی مارا ہوتا تو کیا خون نہیں ہوتا؟، آخری رسوم نہیں ہوتی؟ اگر کوئی بھی معائنہ کرنا چاہتا ہے تو جائے حادثہ ان کیلئے کھلا ہو اہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈی جی نےکہا کہ ۔آپ حملہ نہیں کرتے، آپ صرف در اندازی کر سکتے ہیں۔ آپ ہمیں کبھی چونکا نہیں پائیں گے۔ 

غفور نے کہا ' ہم جواب دیں گے، اب اس کا انتظار کریں۔ ہم آپ کو حیران کر دیں گے۔ امید ہے کہ آپ جانتے ہوں گے کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی کیا ہے؟ پی ایم نے سکیورٹی اور پاکستان کے لوگوں کو تیار رہنے کو کہا ہے۔ اب  (ہندستان) کی  باری ہے۔ چونکانے کیلئے تیار رہیں۔ ڈی جی  نے کہا کہ جب ہم ایسا کریں گے  تو ہم جھوٹ نہیں بولیں گے۔


Share: